زیارتِ کعبہ

زیارتِ کعبہ

جب بڑھائے قدم میں نے سوئے حرم
ہو گئے دُور سب راہ کے پیچ و خم

سامنے ہے نگاہوں کے بابِ حرم
آج جی بھر کے رولے مری چشمِ نم

دیکھ کر جلوۂ کعبۂ محترم
ریزہ ریزہ ہیں وہم و گماں کے صنم

کیوں نہ ہوں اس کی عظمت پہ قربان ہم
گھر یہی ہے خدا کا خدا کی قسم

کیوں نہ ہو ناز آج اپنی تقدیر پر
اِک گناہ گار پر رب کا اتنا کرم

جس کو دیکھو عبادت میں مصروف ہے
ہر نفس مقتدر، محترم، محتشم

کوئی تفریق ہی نیک و بد میں نہیں
سب پہ یکساں برستا ہے ابرِ کرم

ذرّے ذرّے میں ہے کہکشاں کی جھلک
ماہ و خورشید ہیں شمعِ طاقِ حرم

فرش پر اِس کے قربان ہے آسماں
بام و در اور مینار سب محترم

ہم سب شب زاد نوراً علیٰ نور ہیں
گم ہجوم تجلی میں سب بیش و کم

سنگِ اَسود کجا اور کجا میرے لب
میں کہاں اور کہاں یہ طوافِ حرم

آج سجدوں کو معراج حاصل ہوئی
مل گئی ہے جبیں کو زمینِ حرم

دیکھ کر مجھ کو مصروفِ سعیٔ صفا
رُک گئے گردشِ روز و شب کے قدم

چشمۂ آبِ زم زم کی سیرابیاں
ہیچ نظروں میں ہے عظمتِ جامِ جم

اپنے رب سے ہیں سب لو لگائے ہوئے
تھام کر رو رہے ہیں غلافِ حرم

سیلِ اشکِ رواں ہے کہ تھمتا نہیں
لوگ آشکوں سے دھوتے ہیں صحنِ حرم

اِس قدر رُوح پرور سماں دیکھ کر
ہو گئے زندگی کے طلبگار ہم

یہ دُعا مانگ کر اب یہاں سے چلو
زندگی بھر نہ اب ڈگمگائیں قدم

دل میں اعجازؔ ہے اور بھی اِک طلب
چل کے دیکھیں دیارِ شفیعِؐ امم