اے میرے رب سب کے خدا

اے میرے رب سب کے خدا
اے خالقِ ارض و سما

تو مالک و مختار ہے
مجبور سب تیرے سوا

ہیں تیرے آگے سرنگوں
جتنے بھی ہیں شاہ و گدا

ہر تشنہ لب کے واسطے
دریا ہے تیرے فیض کا

انکار کی جرأت نہیں
احسان ہے سب پر ترا

جاری ازل سے تا ابد
تیرے کام کا سلسلہ

اِس بزمِ آب و َگل میں ہے
ہر لب پہ تیرا تذکرہ

ہے فرض ہر انسان پر
یا رب تری حمد و ثنا

ہے مالک و مختارِ کل
مجھ پر بھی ہو تیری عطا

کہتا ہے مجھ کو اِک جہاں
خادم ترے محبوب کا

دے فکر کو وسعت مری
لکھنا ہے نعتِ مصطفیٰؐ

نعتِ رسولؐ محترم
لکھتا رہے میرا قلم

ہاں وہ رسولِؐ معتبر
رحمت لقب خیر البشرؐ

محبوبِ رب اللعالمیں
سب کچھ بہ الفاظِ دِگر

وہ سب رسولوں کا رسولؐ
ہر عہد کا پیغام بر

ہر رہنما کا رہنما
ہر راہبر کا راہبر

وہ جس نے ہر انسان کو
بخشا شعورِ خیر و شر

وہ رحمتہ للعالمینؐ
کون و مکاں زیرِ اثر

سنیے جو نامِ محترم
پڑھیے دُرود اُس نام پر

وہ جس کے زلف و رُخ پہ ہیں
قربان یہ شام و سحر

اس کے نقوشِ پا سے ہیں
تابندہ یہ شمس و قمر

کہتے ہیں جس کو کہشاں
ہے وہ اُسی کی رہگزر

اس کا دیارِ پاک ہے
فردوسِ اربابِ نظر

روشن اُسی کے ذکر سے
سب کے مکاں میرا بھی گھر

نعتِ رسولؐ محترم
لکھتا رہے میرا قلم

نعتِ محمد مصطفیٰؐ
صلِّ علی صلِّ علیٰ

نامِ شہہِؐ لولاک پر
ماں باپ ہوں میرے فدا

ذاتِ شہہِ ابرارؐ پر
نازل کلامِ رب ہوا

کیا کیا لقب اُس کو ملے
شاہِ اُمم خیر الوریٰ

معراج کی شب کا سفر
فہمِ بشر سے ماوریٰ

جس راہ سے گزرا ہے وہ
روشن وہی ہے راستا

وہ فاتحِ بدر و اُحد
وہ شافعِؐ روزِ جزا

ہے خالق و مخلوق میں
قائم اُسی سے رابطہ

اُس کی رسالت جلوہ گر
ہے ابتدا تا انتہا

اللہ نے جس کے لیے
ہر چیز کو پیدا کیا

اسمِ گرامی اُس کا ہے
انسان کے دُکھ کی دوا

اعجازؔ بس تا زندگی
جاری رہے یہ سلسلہ

نعتِ رسولِ محترم
لکھتا رہے میرا قلم