سرکارؐ کا ذکر جو کرتا ہوں اِک کیف سا حاصل ہوتا ہے

سرکارؐ کا ذکر جو کرتا ہوں اِک کیف سا حاصل ہوتا ہے
اِس ذکر میں لوگو! ساتھ مرے اللہ بھی شامل ہوتا ہے

سچائی کے رستے پر چلنا ہر دور میں مشکل ہوتا ہے
سیرت جو نبیؐ کی اپنا لے آسودۂ منزل ہوتا ہے

احکامِ نبیؐ کے سائے میں کردار کو اپنے ہم پرکھیں
نقص نظر آتے ہیں اپنے، جب آئینہ مقابل ہوتا ہے

آقا کی غلامی کے صدقے تاریخ ہے شاہد عالم کی
جب اہلِ عزائم بڑھتے ہیں طوفان بھی ساحل ہوتا ہے

طیبہ کی زمیں پر رکھ کے قدم محسوس یہ ہوتا ہے دل کو
جیسے کوئی نیک اعمال انساں، فردوس میں داخل ہوتا ہے

ماضی کے اُجالے حال پہ جب اے صلِّ علیٰ چھا جاتے ہیں
بیتاب قدم بوسی کے لیے روشن مستقبل ہوتا ہے

یہ بات رسول اکرمؐ نے دنیا کو عمل سے سمجھائی
عظمت کا مقام انسانوں کو کردار سے حاصل ہوتا ہے

!آقا سے محبت ہے جس کو پابندِ شریعت ہے یارو
دیوانہ وہی کہلاتا ہے جو وقفِ سلاسل ہوتا ہے

سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے ہوئے قدسی آتے ہیں
جب نعتِ نبیؐ کا شعر کوئی اعجازؔ پہ نازل ہوتا ہے