انساں کو دہر میں جو پذیرائی چاہیے

انساں کو دہر میں جو پذیرائی چاہیے
اخلاقِ مصطفیٰؐ سے شناسائی چاہیے

تقلیدِ مصطفیٰؐ کا تقاضا یہی تو ہے
اللہ کے حضور جبیں سائی چاہیے

پہلو ہے ایک یہ بھی ثنائے رسولؐ کا
جب جھوٹ سامنے ہو تو سچائی چاہیے

صدقہ رسولؐ کا ہو عطا ربِؐ کائنات
میں ناتواں ہوں مجھ کو توانائی چاہیے

اے چارہ سازِ عیسیٰ نفس جان و دل نثار
بیمار جسم و جاں ہیں مسیحائی چاہیے

مابینِ عرش و فرش جو بن جائے واسطہ
اِس شان کی اِک اور بھی انگڑائی چاہیے

دیدارِ مصطفیٰؐ کی تمنا تو ہے مگر
ہو تابِ دید جس میں وہ بینائی چاہیے

مصروف ہوں میں یادِ رسولِؐ اَنام میں
تنہائی چاہیے مجھے تنہائی چاہیے

وہ اُسوۂ رسولؐ کو اپنا کے دیکھ لے
دونوں جہان میں جسے اچھائی چاہیے

جس سے مقامِ سرورِؐ عالم سمجھ سکوں
اے ربِّ کائنات وہ دانائی چاہیے

اعجازؔ کیا لکھے کوئی اوصافِ مصطفیٰؐ
وسعت زباں میں، فکر میں گہرائی چاہیے