دیوار ہے ٹوٹی ہوئی، ٹوٹا ہوا در ہے

دیوار ہے ٹوٹی ہوئی، ٹوٹا ہوا در ہے
اللہ یہ اللہ کے محبوبؐ کا گھر ہے

شاید یہ غمِ دُوریٔ طیبہ کا اثر ہے
جو اشک بھی ہے آنکھ میں تمثیلِ گہر ہے

کیا لوٹ کے آئے ہیں مدینے کے مسافر
اب دھوپ میں راحت نہ سکوں زیرِ شجر ہے

میں وسعتِ دامانِ نظر دیکھ رہا ہوں
قطرے پہ نہیں میری سمندر پہ نظر ہے

کیا خوب مقدر ہے بلال حبشیؓ کا
اللہ کے محبوبؐ کا محبوبِ نظر ہے

آؤ تو ذرا چل کے درِ پاک پہ دیکھیں
ہے کون جو شائستۂ آدابِ نظر ہے

سب اپنے خیالات میں گم ہیں سرِ محشر
لیکن مرے سرکارؐ کی اُمت پہ نظر ہے

کچھ نعت کے اشعار ہیں، کچھ اشکِ ندامت
طیبہ کے مسافر کا یہی زادِ سفر ہے

اُن سا کوئی اِنسان ہوا اور نہ ہوگا
اعجازؔ میرے سامنے تاریخِ بشر ہے