میں نعت لکھ رہا ہوں رسولِ انامؐ کی

میں نعت لکھ رہا ہوں رسولِ انامؐ کی
چادر تنی ہوئی ہے درود و سلام کی

سرمایۂ حیات ہیں اقوالِ مصطفیٰؐ
ہر بات مصطفیٰؐ نے بتائی ہے کام کی

تہذیب کے چراغ جلائے حضورؐ نے
اِنسان کو سکھائی روِش احترام کی

تعلیم کے دیار، تمدن کے شہر میں
قندیل جل رہی ہے محمد کے نام کی

کردار پر حضورؐ کے دنیا کی تھی نظر
تشریح ہو رہی تھی خدا کے کلام کی

زخموں کے تھے گلاب بدن پر سجے ہوئے
لب پر نہ بات آئی مگر اِنتقام کی

خورشید و ماہتاب تو قدموں کی دھول ہیں
تمثیل ہی نہیں کوئی شاہِؐ اَنام کی

تقلیدِ غیر نے ہمیں پہنچا دیا کہاں
تمیز ہی نہیں ہے حلال و حرام کی

اعجازؔ اپنا اور کوئی مدّعا نہیں
تجدید چاہتے ہیں نبیؐ کے نظام کی