جمالِ مصطفیٰؐ سے کس قدر معمور لگتا ہے

جمالِ مصطفیٰؐ سے کس قدر معمور لگتا ہے
اُجالوں کا نمائندہ ہر اِک مزدور لگتا ہے

دیارِ سرورِ عالمؐ سے کوسوں دُور لگتا ہے
حصارِ ذات میں جو آدمی محصور لگتا ہے

عمل سے ہو اگر خالی محبت سرورِؐ دیں کی
جِلا ہوتے ہوئے بھی آئینہ بے نور لگتا ہے

وہی ہے اِک تجلی وادیٔ ایمن سے طیبہ تک
مدینے کا ہر ایک ذرّہ چراغِ طور لگتا ہے

چراغِ علم و دانائی مدینے کا ہے سودائی
خرد سے دُور وہ ہوتا نہیں ہے دُور لگتا ہے

ہوئے ہیں جب سے اوجھل زاویے رشد و ہدایت کے
یہی انسان جو مختار تھا مجبور لگتا ہے

یقیناً ہے وہاں فقدان تعلیمِ محمدؐ کا
چراغوں کا اُجالا جس جگہ بے نور لگتا ہے

وہ محبوبؐ خدا ہو کر خودی سے دُور حیرت ہے
کسی کو گر کوئی منصب ملے مغرور لگتا ہے

لکھے پھر کس طرح نعتِ نبیؐ اعجازؔ رحمانی
زباں معذور لگتی ہے قلم مجبور لگتا ہے