ذکرِ سلطانِ مدینہ کا جہاں فقدان ہے

ذکرِ سلطانِ مدینہ کا جہاں فقدان ہے
وہ مکاں آباد ہو کر بھی بہت ویران ہے

کیا نظر آئیں ہمیں نقشِ کفِ پائے رسولؐ
آنکھ تو موجود ہے بینائی کا فقدان ہے

واقعی دشوار ہے کمزور اگر ایمان ہے
مصطفیٰؐ کی پیروی مشکل نہیں آسان ہے

آپ نے اپنے عمل سے کر دیا ثابت حضورؐ
جس کا طالب ہے جہاں وہ روشنی، انسان ہے

آپؐ نے اِنساں کو بخشی دولتِ علم و یقیں
ورنہ یہ انسان تو ناداں تھا نادان ہے

انقلاباتِ زمانہ کا اثر مجھ پر نہیں
مطمئن میں ہوں کہ میرا آپ پر ایمان ہے

یاد رکھنا چاہیے یہ قولِ ام المومنیںؓ
آپؐ کا اَخلاق تو قرآن ہی قرآن ہے

جب سے اوجھل ہو گئے ہیں نقشِ پائے مصطفیٰؐ
آدمی کے سامنے حالات کا طوفان ہے

نا خدا اَب بھی سفینہ سوئے طیبہ موڑ دے
ورنہ کشتی ڈوب جانے کا قوی امکان ہے

یہ جو اِنسانوں کا رتبہ ہے فرشتوں سے سوا
آپؐ کا احسان ہے یہ آپؐ کا احسان ہے

ڈھونڈتا ہوں آپ کو میں شافعِ روزِ جزا
ہے قیامت کا سفر اور حشر کا میدان ہے

سادگی اعجازؔ دیکھو سرورِ ذیشان کی
ایک چٹائی، ایک کمبل آپؐ کا سامان ہے