کسی کا قول اُس کے سامنے ٹھہرے تو کیا ٹھہرے

کسی کا قول اُس کے سامنے ٹھہرے تو کیا ٹھہرے
زباں سے بات جو نکلے وہی وحِیّ خدا ٹھہرے

میانِ خالق و مخلوق کیسے فاصلہ ٹھہرے
رب ان کا آشنا ٹھہرا وہ رب کے آشنا ٹھہرے

وہ طائف ہو اُحد ہو، بدر ہو، خندق ہو، موطا ہو
بڑے ثابت قدم آقا بوقتِ اِبتلا ٹھہرے

پتا جنت کا دنیا میں بتا دوں تجھ کو اے واعظ
جسے ارمانِ جنت ہو مدینے میں وہ جا ٹھہرے

کرے صحرا کو جو گلشن دعائیں دے جو دشمن کو
یہ سب اوصاف ہوں جس میں وہ محبوبؐ خدا ٹھہرے

جمالِ مصطفیٰؐ سے دل مرا خورشیدِ ساماں ہے
اس آئینے میں کوئی عکس ٹھہرے بھی تو کیا ٹھہرے

نہیں ہے رہنمائی خضرِ منزل اب ترے بس کی
کرے گا رہنمائی وہ جو سب کا رہنما ٹھہرے

بجھا سکتا نہیں کوئی بھی شمعِ مصطفائی کو
ہوا میں آگ لگ جائے مقابل گر ہوا ٹھہرے

عمل سے دور ہیں ہم صرف اُن کا نام لیتے ہیں
خدا جانے سرِ محشر ہماری کیا سزا ٹھہرے

بچھائیں کیوں نہ ہم اعجازؔ آنکھیں راہ میں اُس کی
کہ جس کی خاکِ پا بھی غازۂ عرشِ علا ٹھہرے