اشکِ غم اپنے دُرِ شہوار ہیں

اشکِ غم اپنے دُرِ شہوار ہیں
سب بنامِ سیدِ ابرارؐ ہیں

اُن کا صدقہ مل رہا ہے آج بھی
ہم تو آقاؐ کے وظیفہ خوار ہیں

درس وحدت کا دیا تھا آپؐ نے
مختلف اپنے مگر معیار ہیں

اُمتِ محبوبؐ پر یارب کرم
پھول گلشن کے خزاں آثار ہیں

آپؐ کی سیرت پہ کرتے ہیں عمل
جس قدر بھی صاحبِ کردار ہیں

اُن کی رحمت کام آئے گی مگر
ہم عمل کے بھی تو ذمہ دار ہیں

ہیں مسلماں اور شریعت سے گریز
ہم خود اپنی راہ کی دیوار ہیں

مشعلِ راہِ ہدایت آج بھی
آپؐ کے نقشِ قدم سرکارؐ ہیں

مدحتِ سرکارؐ جن کا شغل ہے
وہ بڑے شاعر بڑے فنکار ہیں

کھل گیا اعجازؔ نسبت کا بھرم
ہم مہاجر ہیں نہ ہم انصار ہیں