یادِ شہہِؐ لولاک میں دل اشک فشاں ہے

یادِ شہہِؐ لولاک میں دل اشک فشاں ہے
یہ گھر ہے مرا یا کہ ستاروں کا جہاں ہے

انسانوں میں ایسا کوئی انسان کہاں ہے
توصیفِ محمدؐ پہ تو مجبور زباں ہے

دنیا کے کسی گوشے میں آرام کہاں ہے
صرف ایک مدینہ ہے وہی جائے اماں ہے

اِس باغ کا ہر پھول مہکتا ہی رہے گا
اِسلام کے گلشن سے بہت دُور خزاں ہے

جس راہ سے سرکارؐ سوئے عرش گئے تھے
وہ راہگزر آج تلک کاہکشاں ہے

حق جس سے ادا ہو سکے توصیفِ نبیؐ کا
ایسا تو مرے پاس قلم ہے نہ زباں ہے

احساس ہوا کوچۂ رحمت سے بچھڑ کر
اب دھوپ ہی کیا ہم پہ تو سایہ بھی گراں ہے

تم شمعیں جلاؤ تو سہی حبِّ نبیؐ کی
چھٹ جائے گا خود ہی جو یہ نفرت کا دھواں ہے

تفسیر بھی ہے ذاتِ نبیؐ اور عمل بھی
قرآن تو مجموعۂ الفاظ و بیاں ہے

سرکارؐ کے اِرشاد پہ جب تک نہ یقیں ہو
عقبیٰ بھی حقیقت نہیں جنت بھی گماں ہے

چلیے تو وہیں چلیے طلب ہے جو سکوں کی
آرام گہہِ سرورِ کونینؐ جہاں ہے

حسرت تو ہے اعجازؔ بہت دیدِ نبیؐ کی
گنجائشِ دامانِ نظر اتنی کہاں ہے