آسماں حیرت زدہ ہے دیکھ کر دنیا کا رنگ

آسماں حیرت زدہ ہے دیکھ کر دنیا کا رنگ
سارے رنگوں پر ہے غالب گنبدِ خضرا کا رنگ

جس نے دیکھی ہیں مدینے کی سنہری جالیاں
اُس کی نظروں میں سمائے کیا گل و لالہ کا رنگ

خوبصورت، خوب سیرت ہر نبیؑ اپنی جگہ
منفرد ہے سارے نبیوں میں شہہؐ والا کا رنگ

پیار کی شبنم سے شعلے نفرتوں کے بجھ گئے
خلد ساماں ہو گیا تپتے ہوئے صحرا کا رنگ

وقت تو سویا ہوا تھا وقت کیا بتلائے گا
پوچھیے جبریلؑ سے کیا تھا شبِ اسریٰ کا رنگ

رفتہ رفتہ راس آئے گا جمالِ مصطفیٰؐ
کھلتے کھلتے ہی کھلے گا دیدۂ بینا کا رنگ

رنگِ صدیقؓ و عمرؓ، عثمانؓ و حیدرؓ دیکھنا
اُن کے ہر اُسلوب میں ہے سیدِ والاؐ کا رنگ

ایک آنسو بن گیا تمثیلِ ہجرِ مصطفیٰؐ
ایک قطرے سے نمایاں ہو گیا دریا کا رنگ

جامِ کوثر سے نوازیں گے مجھے شاہِؐ اُمم
حشر کے دن رنگ لائے گا مری توبہ کا رنگ

دل میں ہے اعجازؔ دیدارِ حرم کی آرزو
ہم بھی دیکھیں گے کسی دن گلشنِ طیبہ کا رنگ