کیسے مرجھائے گا مزدوروں کی عظمت کا گلاب

کیسے مرجھائے گا مزدوروں کی عظمت کا گلاب
محنتِ سرکارؐ سے مہکا ہے محنت کا گلاب

آج بھی ہے وادیٔ طائف کا ہر ذرّہ گواہ
درمیاں کانٹوں کے تھا امن و اخوت کا گلاب

جس کی خوشبو سے معطر ہے مشامِ دو جہاں
باغِ طیبہ میں کھلا ایسا مشیت کا گلاب

جتنے بڑھتے ہیں مصائب اُتنا بڑھتا ہے نکھار
شرک کے کانٹوں ہی میں کھلتا ہے وحدت کا گلاب

کس لیے پھر رشکِ جنت گلشنِ طیبہ نہ ہو
دونوں عالم میں نہیں اِس شان و شوکت کا گلاب

اللہ اللہ یہ نوازش یہ کرم اللہ کا
خار زارِ جہل میں اور علم و حکمت کا گلاب

کیوں مدینے پر نہ ہوں قربان دنیا کی بہار
گنبدِ خضرا کے سائے میں ہے رحمت کا گلاب

وہ سراپا رنگ و خوشبو، وہ سراپا ہے بہار
جس کے دل میں کِھل گیا اُن کی محبت کا گلاب

طائرِ سدرہ کے لب پر ہو گیا جاری دُرود
برسرِ شاخِ سخن مہکا جو مدحت کا گلاب

کھل اٹھیں گے ہم گناہگاروں کے چہرے حشر میں
مصطفیٰؐ کے ہاتھ میں ہوگا شفاعت کا گلاب

مستقل اعجازؔ جو لکھے گا نعتِ مصطفیٰؐ
حشر تک مہکے گا اُس شاعر کی شہرت کا گلاب