سیرت کا ہر پہلو روشن صرف مرے سرکارؐ کا ہے

سیرت کا ہر پہلو روشن صرف مرے سرکارؐ کا ہے
لطف و کرم کی بات وہیں ہے ذکر جہاں تلوار کا ہے

روشن روشن بزمِ دو عالم مہکی مہکی سانسیں ہیں
صلِّ علیٰ سبحان اللہ کیا ذکر مرے سرکارؐ کا ہے

اُس کی بصیرت کے قائل ہیں، دانشور، مزدور، کسان
دنیا بھر میں چرچا لوگو! اُس کے ہی افکار کا ہے

دین کے دشمن سنگ زنوں کو شاید یہ معلوم نہیں
پتھر سے کیا ٹوٹ سکے گا آئینہ کردار کا ہے

یہ ساری شادابی ہے، رحمتِ عالمؐ کی رحمت سے
نفرت کا صحرا ہے دُنیا، موسم لیکن پیار کا ہے

کہکشاں سے لالہ و گل تک عکس ہے ایک تجلی کا
اِک پر تو ہے نقشِ قدم کا ایک پر تو رخسار کا ہے

حشر کے دن بھی مہرِ قیامت مجھ کو ڈھونڈ نہ پائے گا
لوگو! میرے سر کے اوپر سایہ کس دیوار کا ہے

نعتِ رسول اکرمؐ لکھ کر اِک مدت سے سوچ میں ہوں
جس معیار کی ذات ہے وہ کیا ذکر بھی اُس معیار کا ہے

نعتِ شہہِ ابرارؐ تو میں اعجازؔ ہمیشہ لکھتا ہوں
مجھ کو مگر معلوم نہیں جو پیرایہ اِظہار کا ہے