خدا کی ذات کا جو مستند حوالا ہے

خدا کی ذات کا جو مستند حوالا ہے
اُسی چراغ سے ہر ذہن میں اجالا ہے

حضورؐ آپ کا نوعِ بشر پہ ہے احساں
جہاں بھی دیکھیے انساں کا بول بالا ہے

شعور آپؐ نے، تہذیب آپ نے بخشی
جہالتوں سے ہمیں آپؐ نے نکالا ہے

حضورؐ آپؐ نے معراج کا سفر کرکے
فسونِ گردشِ ایام توڑ ڈالا ہے

نبیؐ کا اسمِ گرامی ہے روشنی کا سبب
جہاں پہ ذکرِ نبیؐ ہے وہیں اُجالا ہے

جہاں کہیں بھی قدم لڑکھڑائے ہیں میرے
حضورؐ آپؐ کے کردار نے سنبھالا ہے

بجھا سکے گا نہ کوئی دلوں کی قندیلیں
حضورؐ آپ کا بخشا ہوا اُجالا ہے

حضورؐ گھر میں سکوں ہے نہ گھر کے ہے باہر
ہمیں تو برقِ تعصب نے پھونک ڈالا ہے

بجز حضورؐ بتاؤ تو ذہنِ انساں کو
شعور و فکر کے سانچے میں کس نے ڈھالا ہے

یقیں نہ آئے تو قرآں سے پوچھ لو اعجازؔ
نبیؐ سے بڑھ کے کوئی پیار کرنے والا ہے