کیا شانِ مساواتِ شہنشاہِؐ اُمم ہے

کیا شانِ مساواتِ شہنشاہِؐ اُمم ہے
گورا ہے نہ کالا ہے عرب ہے نہ عجم ہے

محدود کہاں سلسلۂ لوح و قلم ہے
نامِ شہِ ابرارؐ دلوں پر بھی رقم ہے

ہم لاکھ بیاں کرتے رہیں وصفِ محمدؐ
مدحت تو وہی ہے کہ جو قرآں میں رقم ہے

قرآن کی تفسیر کا ایک یہ بھی ہے پہلو
مجموعۂ اخلاقِ شہنشاہِ اُمم ہے

ایماں کے چراغوں کو ضیا جس سے ملی ہے
روشن وہ چراغ اب بھی سرِ طارقِ حرم ہے

ہیں قہر سے اللہ کے محفوظ ہم اب تک
یہ اُن کی نوازش ہے عنایت ہے کرم ہے

عظمت کا تصور بھی ہے منسوب اُسی سے
وہ ذات اکیلی ہی دو عالم کا بھرم ہے

جس نے ہمیں دنیا کے رِواجوں سے چھڑایا
وہ طوقِ غلامیٔ شہنشاہِؐ اُمم ہے

سرکارؐ کے قدموں سے یہاں پھول کھلے ہیں
طیبہ بھی مرے واسطے گلزارِ اِرم ہے

نعتِ شہہِ ابرارؐ ہی پہچان ہے میری
اعجازؔ مرے واسطے اعزاز یہ کم ہے