بفیضِ مصطفیٰؐ ہوتی رہے گی

بفیضِ مصطفیٰؐ ہوتی رہے گی
عطائے کبریا ہوتی رہے گی

یہ دنیا ختم ہو جائے گی لیکن
ثنائے مصطفیٰؐ ہوتی رہے گی

محبت کا صلہ ملتا رہے گا
کرم کی انتہا ہوتی رہے گی

یہ دُنیا اُسوۂ خیرالبشرؐ سے
تمدن آشنا ہوتی رہے گی

نبیؐ کا تذکرہ ہوتا رہے گا
یہ جان اُن پر فدا ہوتی رہے گی

بڑھے گی جس قدر قربت نبیؐ سے
یہ مٹی کیمیا ہوتی رہے گی

نہ ٹوٹے گا تسلسل کہکشاں کا
زمیں عرش آشنا ہوتی رہے گی

مدینے سے رہوں گا دُور جب تک
مری وحشت سوا ہوتی رہے گی

نبیؐ کی بات اگر اب بھی نہ مانی
قیامت ہی بپا ہوتی رہے گی

میں نعت اعجازؔ اگر لکھتا رہوں گا
مرے فن پر جِلا ہوتی رہے گی