معیار ولایت کا حقیقت میں یہی ہے

معیار ولایت کا حقیقت میں یہی ہے
سیرت پہ عمل کر لے تو انسان ولی ہے

مفلس ہوں کہ دامن مرا، دولت سے تہی ہے
ہاں پاس مگر دولتِ اخلاقِ نبیؐ ہے

اِک کیف سا رگ رگ میں مری دوڑ رہا ہے
جس دن سے تصوّر میں مدینے کی گلی ہے

انسان کو انسان سمجھتا نہ تھا کوئی
یہ رسمِ اخوّت شہہِ والاؐ سے چلی ہے

جس در پہ فرشتوں کی نظر آئیں قطاریں
آرام گہہِ سرورِ کونینؐ وہی ہے

وہ علم کا خورشید جو نکلا تھا حرا سے
شمعِ رہِ تہذیب اُسی سے تو جلی ہے

بخشی ہوئی خیرات ہے اک اُمی لقبؐ کی
یہ علم کی دولت جو زمانے کو ملی ہے

کٹ جائے گی سرکارؐ کی سیرت پہ عمل سے
پیروں میں جو حالات کی زنجیر پڑی ہے

یہ جادۂ احمدؐ سے بھٹکنے کی سزا ہے
رستے میں مصائب کی جو دیوار کھڑی ہے

اے صلِّ علیٰ آپؐ کے افکار کی خوشبو
ہر ذہن میں توحید کا در کھول رہی ہے

انسان کی عظمت کا تمسخر نہ اُڑاؤ
انسان تو آئینۂ اوصافِ نبیؐ ہے

کیا لوگ تھے وہ لوگ کوئی پوچھے خدا سے
آقاؐ کی غلامی کی سند جن کو ملی ہے

دنیا کا کوئی اِزم ضمانت نہیں دیتا
اسلام کے دامن میں حیات ابدی ہے

اعجازؔ ہر اِک عہد کی تاریخ ہے شاہد
انسان محمدؐ سا کوئی تھا نہ کوئی ہے