رسولؐ اللہ کی سیرت کو اپنا لے جو مشکل میں

رسولؐ اللہ کی سیرت کو اپنا لے جو مشکل میں
نظر آئے نہ پھر کاسہ کسی بھی دستِ سائل میں

زباں پر ذکر اُن کا اور محبت ہے اگر دل میں
تو پھر بیکار ہو جاتا ہے خنجر دستِ قاتل میں

بڑے ہشیار ہوتے ہیں یہ دیوانے محمدؐ کے
دو عالم دسترس میں پاؤں رکھتے ہیں سلاسل میں

سمجھ لیجیے وہ خود ناقص ہے اُن کی فکر ناقص ہے
نظر آئے کسی کو نقص اگر انسانِ کامل میں

اگر اب بھی نہ ہم نے سیرتِ سرورؐ کو اپنایا
اضافہ اور ہو جائے گا دنیا کے مسائل میں

مسافت میں گزر جائے یہ ساری زندگی یا رب
سکوں ملتا ہے کچھ ایسا رہِ طیبہ کی منزل میں

خدا جس کا محافظ، ناخدا جس کے محمدؐ ہوں
وہ کشتی ڈوب سکتی ہی نہیں طوفانِ باطل میں

خدا کے فضل سے ارمان پورے ہو گئے سارے
مدینے کی تمنا ہے جو باقی رہ گئی دل میں

یہی تعلیمِ قرآں ہے یہی درسِ محمدؐ ہے
خدا کا نام لینا چاہیے اعجازؔ مشکل میں