سامنے جب وہ درِ خلد نشاں ہوتا ہے

سامنے جب وہ درِ خلد نشاں ہوتا ہے
اپنے ہونے کا بھی احساس کہاں ہوتا ہے

حالِ دل تو سرِ محراب بیاں ہوتا ہے
تیر ہر حال میں محتاجِ کماں ہوتا ہے

روز ہوتا ہے تصوّر میں مدینے کا سفر
روز اک قافلۂ شوق رواں ہوتا ہے

آج بھی گلشنِ طیبہ سے ہے نسبت جن کو
اُن گلوں کو کہیں احساسِ خزاں ہوتا ہے

دشمنِ جاں بھی ہیں اِس طرزِ تکلّم پہ نثار
بات کرتے ہیں تو قرآن بیاں ہوتا ہے

رابطہ جن کا نہیں شمعِ رسالت سے کوئی
اُن چراغوں کے مقدر میں دھواں ہوتا ہے

سنگ ریزے بھی بیاں کرتے ہیں عظمت اُن کی
خامشی میں بھی اِک اندازِ بیاں ہوتا ہے

پوچھتی ہے مجھے روز آکے نسیمِ رحمت
روز آباد مرا قریۂ جاں ہوتا ہے

جب سے تاریخ ہے طائف کی نظر میں اعجازؔ
طنز ہوتا ہے نہ دُشنام گراں ہوتا ہے