نہ لاتے مصطفیٰؐ پیغام اگر امن و اُخوت کا

نہ لاتے مصطفیٰؐ پیغام اگر امن و اُخوت کا
نہ ہوتا ختم دنیا سے زمانہ جارحیّت کا

اُسی کی ذات سے ہے بول بالا آدمیت کا
لباس انسان کو پہنا دیا جس نے شریعت کا

چراغ افکار کے روشن کیے ہیں سرورِؐ دیں نے
منّور ذرّہ ذرّہ کیوں نہ ہو راہِ ہدایت کا

رسولؐ اللہ کے صدقے بھرم ہے آج تک قائم
دیانت کا، امانت کا، صداقت کا، عدالت کا

قیامت میں نہ جانے کیا قیامت ہو خدا جانے
مسلماں کے لیے یہ بھی زمانہ ہے قیامت کا

بھڑک اٹھیں ابھی کونین میں شعلے جہنم کے
جو اک پل کو تسلسل ٹوٹ جائے اُن کی رحمت کا

ہمارے طائرِ افکار کی پرواز ناقص ہے
کسی سے ہو سکے گا کیا تعین اُن کی رفعت کا

بتائے ہیں ہمیں آداب مرنے اور جینے کے
سنایا ہے ہمیں مژدہ بھی آقاؐ نے شفاعت کا

نوازا ہے ہمیں کتنے چراغوں سے شہِؐ دیں نے
طریقہ بھی بتایا ہے چراغوں کی حفاظت کا

صدائے مصطفیٰؐ تو دے رہی ہے آج بھی دستک
دریچہ بند کر رکھا ہے ہم نے ہی سماعت کا

محد سے تا لحد اعجازؔ ہے وہ رہنما اپنا
سبق ہرگام پر جس نے دیا ہے اِستقامت کا