دیدۂ و دل کو بخشا ہے نور آپؐ نے

دیدۂ و دل کو بخشا ہے نور آپؐ نے
خیر و شر کا دیا ہے شعور آپؐ نے

آدمی کے دُکھوں کا مداوا کیا
زندگی بخش دی ہے حضورؐ آپؐ نے

آپؐ نے عام کی علم کی روشنی
جہل سے کر دیا ہم کو دُور آپؐ نے

پھول کس نے کھلائے ہیں اخلاق کے
آپؐ نے صرف میرے حضورؐ آپ نے

آپؐ کی ذات بھی، بات بھی روشنی
تیرگی کو بنایا ہے نور آپؐ نے

دل کی دھڑکن کوئی بے سبب تو نہیں
یاد مجھ کو کیا ہے ضرور آپؐ نے

جو گیا ہے حرم سے درِ خلد تک
راستا وہ بتایا حضورؐ آپؐ نے

ٹوٹ سکتا نہیں حشر تک سلسلہ
دل کو بخشا ہے ایسا سرور آپؐ نے

موجزن جس میں طوفاں مصائب کے تھے
وہ سمندر کیا ہے عبور آپؐ نے

پھر میں اعجازؔ اعجاز ہو جاؤں گا
گر مدینے بلایا حضورؐ آپؐ نے