فرش سے عرش کی طرف آپؐ نے جب سفر کیا

فرش سے عرش کی طرف آپؐ نے جب سفر کیا
لمحوں کو طول دے دیا صدیوں کو مختصر کیا

دے کے شعور وقت کا وقت سے باخبر کیا
شام کو محترم کیا صبح کو معتبر کیا

آپؐ نے حسنِ خلق سے بدلا نظامِ دہر کو
دشتِ بلا صفات کو جنتِ ہر نظر کیا

صدیوں سے تھی تھکی ہوئی گردشِ وقت رک گئی
یہ بھی کرم حضورؐ نے گردشِ وقت پر کیا

مشعلِ علم و آگہی بجھنے نہ دی حضورؐ نے
ظلم پر مسکرا دیے طنز کو درگزر کیا

آپؐ کے اِلتفات نے، چشمِ کرم صفات نے
کار گہہِ حیات کو خوب سے خوب تر کیا

آپؐ نے اپنے پیارے سے خلق کے اعتبار سے
تیر کو کند کر دیا تیغ کو بے اثر کیا

میں بھی مدینے جاؤں گا دل کی مراد پاؤں گا
خالقِ کائنات نے مجھ پہ کرم اگر کیا