کیا ہے ذکر یہ کس نے شہہِ رسالتؐ کا

کیا ہے ذکر یہ کس نے شہہِ رسالتؐ کا
شعور جاگ اٹھا ہے مری سماعت کا

مطالعہ ہے ضروری نبیؐ کی سیرت کا
اگر مقام سمجھنا ہے آدمیت کا

ہر آدمی کے لیے احتساب لازم ہے
مقابل آئینہ رکھا ہے اُن کی سیرت کا

عمل کی راہ میں روشن ہیں نقشِ پائے حضورؐ
قدم قدم پہ ہے اِک درس اِستقامت کا

حضورؐ بن کے نہ آتے جو رحمتِ عالم
نہ ختم ہوتا زمانہ کبھی مصیبت کا

قبا حضورؐ نہ دیتے اگر تمدّن کی
لباس چاک نہ ہوتا کبھی جہالت کا

نبیؐ لہو نہ بہاتے جو برسرِ طائف
نہ ملتا ایک بھی لمحہ ہمیں مسرت کا

خلاف مرضیٔ رب اِک قدم چلے نہ حضورؐ
مذاق اُڑاتے ہیں کچھ لوگ آج ہجرت کا

تمام اِزم زمانے کے سرِنگوں ہوں گے
مگر بلند رہے گا علَم شریعت کا

کھڑا ہوں میں بھی ہجومِ گنہگاراں میں
حضورؐ میں بھی طلبگار ہوں شفاعت کا

عمل سے قول کی تصدیق چاہیے اعجازؔ
وہ حال کیا کہ جو محتاج ہو وضاحت کا