مجھ کو توفیقِ ذکرِ نبیؐ مل گئی

مجھ کو توفیقِ ذکرِ نبیؐ مل گئی
بجھ رہا تھا دیا روشنی مل گئی

اب درِ خلد تک میں پہنچ جاؤں گا
شکر ہے رہگزر آپؐ کی مل گئی

روضۂ مصطفیٰؐ ہے مرے سامنے
میری جنت مجھے آج ہی مل گئی

آگئی کام خاکِ درِ مصطفیٰؐ
کور چشموں کو دیدہ وَری مل گئی

نقشِ پائے نبیؐ کی بدولت ہمیں
حشر تک کے لیے رہبری مل گئی

ایک اُمی لقب کا کرم دیکھیے
جاہلوں کو بھی شائستگی مل گئی

زندگی کا سلیقہ دیا آپؐ نے
آدمی کو سلامت روی مل گئی

دیکھیے تو سرِ کوچۂ مصطفیٰؐ
موت کیا آگئی زندگی مل گئی

ہے قلمرو میں اعجازؔ ملکِ سخن
مدحِ سرکارؐ سے خسروی مل گئی