جو مدینے کی طرف عزمِ سفر رکھتے ہیں

جو مدینے کی طرف عزمِ سفر رکھتے ہیں
اپنے اعمال پہ وہ لوگ نظر رکھتے ہیں

جن کے دامن میں ہیں اَخلاقِ نبیؐ کے موتی
غیر کو اپنا بنانے کا ہنر رکھتے ہیں

جن چراغوں کا تعلق درِ سرکارؐ سے ہے
ظلمتِ شب میں وہ اندازِ سحر رکھتے ہیں

گفتگو میں جو روا رکھتے ہیں اندازِ رسولؐ
اپنی باتوں میں وہ خوشبو کا اثر رکھتے ہیں

محترم سایۂ طوبیٰ سے ہے جس کا سایہ
سر پہ ہم اپنے وہ رحمت کا شجر رکھتے ہیں

مدحِ سرکارؐ دو عالم ہے زباں کی معراج
جس میں سرکارؐ کا سودا ہو وہ سر رکھتے ہیں

نفرتوں سے انہیں کیا کام جو ہیں ان کے غلام
وہ تو دامن میں محبت کے گہر رکھتے ہیں

بس یہ اک بات ہے محشر میں سکوں کا باعث
آپؐ تو اپنے غلاموں کی خبر رکھتے ہیں

دولتِ حبِّ نبیؐ ہے بڑی دولت اعجازؔ
ہم کہاں دولتِ دنیا پہ نظر رکھتے ہیں