مشعلِ سیرتِ سرکارؐ جلا رکھی ہے

مشعلِ سیرتِ سرکارؐ جلا رکھی ہے
شرط ہم نے بھی ہواؤں سے لگا رکھی ہے

آج بھی سرورِ کونین کے دیوانوں نے
عالمِ کفر میں اِک آگ لگا رکھی ہے

چھوڑ کر دامنِ اَخلاقِ رسولِ اکرمؐ
بھائی نے بھائی پہ تلوار اٹھا رکھی ہے

زلزلے آئیں تو کترا کے گزر جائیں گے
میرے سرکارؐ نے بنیادِ وفا رکھی ہے

اور ہے کون بتاؤ شہہِ والا کے سوا
جس نے اچھائی کی دنیا میں بِنا رکھی ہے

میں زمانے کے اُصولوں کی طرف کیا دیکھوں
سامنے سیرتِ محبوب خدا رکھی ہے

صرف اور صرف ہے وہ اسمِ گرامیٔ حضورؐ
آبرو جس نے تری دستِ دعا رکھی ہے

گرمیٔ حشر سے محشر میں رہے گا محفوظ
جسم پر جس نے شریعت کی قبا رکھی ہے

یہ بھی سرکارِؐ دو عالم کا کرم ہے اعجازؔ
میرے مولا نے مری بات بنا رکھی ہے