اپنے دشمن کے دل میں بھی گھر کیجیے

اپنے دشمن کے دل میں بھی گھر کیجیے
دوستو! ذکرِ خیرِ البشرؐ کیجیے

اتباعِ شہہِؐ بحر و بر کیجیے
ایک ہی کام بس عمر بھر کیجیے

راستا خود ہی جنت کا مل جائے گا
نقشِ پائے نبیؐ پر سفر کیجیے

دوستو! مصطفیٰؐ کا یہ پیغام ہے
بات جب کیجیے معتبر کیجیے

دل مدینہ اگر ہے تو پھر غم نہیں
زندگی کو کہیں بھی بسر کیجیے

حبِّ احمدؐ ہے کافی پئے آخرت
اپنے سامان کو مختصر کیجیے

منزلِ جنگِ خندق رہے سامنے
جب بھی روشن چراغِ ہنر کیجیے

رحمتوں کا طلبگار میں بھی تو ہوں
میری جانب بھی آقاؐ نظر کیجیے

اُسوۂ مصطفیٰؐ کی جھلک اُس میں ہو
کوئی بھی کام اعجازؔ اگر کیجیے