اسوۂ خیر البشرؐ ہے زندگی کی روشنی

اسوۂ خیر البشرؐ ہے زندگی کی روشنی
آدمی کو مل گئی ہے آدمی کی روشنی

آپؐ محبوبِ خدا ہیں آپؐ مطلوبِ جہاں
آپؐ ہی کے سارے جلوے آپؐ ہی کی روشنی

آپؐ کی ذاتِ گرامی نامِ نامی آپؐ کا
ہر زمانے کا ہے عنواں، ہر صدی کی روشنی

جبکہ خود خالق و رفعنا لک ذکرک کہے
ختم ہو سکتی نہیں ذکرِ نبیؐ کی روشنی

آج بھی انسانیت کی راہ میں ہے جلوہ گر
آپؐ کے اخلاق کی شائستگی کی روشنی

مسئلے حل ہو رہے ہیں آپ کی تعلیم سے
ذہنِ انساں کو ملی ہے آگہی کی روشنی

جس کے نقشِ پا ہیں سورج ہم تو پیرو اُس کے ہیں
کام آئے گی ہمارے کیا کسی کی روشنی

گر نہ ہوتے آپؐ کے کردار سے روشن چراغ
ختم اِس دنیا سے ہو جاتی کبھی کی روشنی

رہنما ہے آپ کا کردار بھی اور ذات بھی
راستے کا راستا ہے روشنی کی روشنی

جتنا ہوتا جائے گا انساں تمدّن آشنا
پھیلتی جائے گی تعلیمِ نبیؐ کی روشنی

اجر بھی اُن کی ثنا کا پاؤ گے اعجازؔ تم
کام آئے گی مگر کردار ہی کی روشنی