غمِ نبیؐ میں جو دل کو نڈھال رکھتے ہیں

غمِ نبیؐ میں جو دل کو نڈھال رکھتے ہیں
یہ لوگ وہ ہیں جو ظرفِ بلالؓ رکھتے ہیں

وہ دوست ہوں کہ دشمن کہ ہوں وہ گھر والے
مرے حضورؐ تو سب کا خیال رکھتے ہیں

مرے حضورؐ سے منسوب خوبیاں ہیں تمام
کمال جتنے ہیں سارے کمال رکھتے ہیں

ستم کا وار کوئی کارگر نہیں ہوتا
وہ اپنے پاس محبت کی ڈھال رکھتے ہیں

کوئی جواب نہ صورت کا ہے نہ سیرت کا
ہر آئینے میں وہ اپنا جمال رکھتے ہیں

کبھی ستم سے جوابِ ستم نہیں دیتے
وہ اپنے لب پہ تبسم بحال رکھتے ہیں

ہے جن کے سامنے سیرت رسولِ اکرمؐ کی
جہاں میں وہ روشِ اعتدال رکھتے ہیں

وہ چند لمحے گزار آئیں جاکے طیبہ میں
جو اپنے بگڑئے ہوئے ماہ و سال رکھتے ہیں

وہ سارے زائرِ طیبہ عظیم ہیں اعجازؔ
قدم قدم جو ادب کا خیال رکھتے ہیں