رونق بھی وہی دن کی وہی زینتِ شب ہے

رونق بھی وہی دن کی وہی زینتِ شب ہے
وہ ذات جو تخلیقِ دو عالم کا سبب ہے

میں سوچ رہا ہوں یہ کرم کتنا عجب ہے
مجھ جیسا گناہگار بھی محفوظِ غضب ہے

سرمایۂ تہذیبِ بشر ذاتِ محمدؐ
اور اسمِ گرامی ہے کہ تاریخِ ادب ہے

انسان کو انسان بنایا ہے اُسی نے
وہ ذات ہی انسان کی عظمت کا سبب ہے

یکتا تھے وہ یکتا ہیں وہ یکتا ہی رہیں گے
جب تھا کوئی ثانی مرے آقا کا، نہ اب ہے

کیا پیش کرے گا کوئی تمثیلِ محمدؐ
کونین میں جو کچھ ہے وہ اک ذات میں سب ہے

جو دشمنِ جاں کو بھی دعاؤں سے نوازے
کیا آج بھی ایسا کوئی شائستہ لب ہے

منسوب جو اُن سے ہے بڑی بات ہے اُس کی
جو اُن کا نہیں ہے وہی بے نام و نسب ہے

مدحِ شہہِ ابرارؐ ہی پہچان ہے میری
تعریف کسی اور کی مطلوب ہی کب ہے

اعجازؔ نہ ہاتھوں سے چُھٹے دامنِ رحمت
اس دامنِ رحمت کا تو چھٹنا ہی غضب ہے