کہہ دو کہ ٹھہر جائے یہیں وقتِ رمیدہ

کہہ دو کہ ٹھہر جائے یہیں وقتِ رمیدہ
پڑھتا ہوں میں سرکارِ دو عالمؐ کا قصیدہ

قرآن کا انداز کوئی لائے کہاں سے
کیسے ہوں بیاں آپ کے اوصافِ حمیدہ

دیکھے تو کوئی عظمتِ سرکارِ دو عالمؐ
ہر ایک بلندی کا یہاں سر ہے خمیدہ

لے آئی کہاں خلقِ محمد سے یہ دوری
انسان اور انسان سے اس درجہ کشیدہ

ہر ذہن معطر ہے ہر ایک دل ہے منّور
وہ علم کا خورشید وہ خوشبو کا جریدہ

دیوانہ ہے شائستہ آدابِ مدینہ
ہیں بال پریشان نہ دامن ہے دریدہ

مفہوم اُجالے کا سمجھتا نہ تھا کوئی
سرکارؐ سے پہلے تھی سحر رات گزیدہ

اعجازؔ وہ اِک سرور کونینؐ کی ہستی
اور ایک مری ذات کہ دیدہ نہ شنیدہ