میں تو کیا کوئی قلمکار نہیں لکھ سکتا

میں تو کیا کوئی قلمکار نہیں لکھ سکتا
مدحتِ سیدِ ابرارؐ نہیں لکھ سکتا

آپؐ کے در سے نہیں جن کو تعلق کوئی
اُن چراغوں کو ضیا بار نہیں لکھ سکتا

یہ شعور آپؐ کے صدقے میں ملا ہے مجھ کو
دھوپ کو سایۂ دیوار نہیں لکھ سکتا

جس کو آئیں نہ نظر نقشِ کفِ پائے رسولؐ
میں اُسے دیدۂ بیدار نہیں لکھ سکتا

جس کے دامن میں ہے اخلاقِ نبیؐ کی دولت
ایسے انسان کو نادار نہیں لکھ سکتا

آپؐ نے پیار سے مغلوب کیا دشمن کو
آپؐ کے خلق کو تلوار نہیں لکھ سکتا

!مبتلا ہے جو غمِ ہجرِ نبیؐ میں لوگو
ایسے بیمار کو بیمار نہیں لکھ سکتا

کس سے منسوب کروں جب کوئی تمثیل نہیں
انتسابِ لب و رخسار نہیں لکھ سکتا

خامۂ رب کے سوا سارے قلم ہیں معذور
کوئی بھی آپؐ کا معیار نہیں لکھ سکتا

نعت لکھواتا ہے اللہ تو لکھ لیتا ہوں
میں تو اِک حرف بھی سرکارؐ نہیں لکھ سکتا

وہ جو حسان نے اعجاز کبھی لکھے تھے
زندگی بھر میں وہ اشعار نہیں لکھ سکتا