جو لوگ نفرتوں کا اظہار کر رہے ہیں

جو لوگ نفرتوں کا اظہار کر رہے ہیں
تعلیمِ مصطفیٰؐ سے انکار کر رہے ہیں

توحید کا جو دل سے اقرار کر رہے ہیں
روشن وہ عظمتوں کے مینار کر رہے ہیں

محفل میں ہم جو ذکرِ سرکارؐ کر رہے ہیں
اسلام دوستی کا اظہار کر رہے ہیں

سجدہ جو کر رہے ہیں نقشِ قدم پہ اُن کے
اندھی عقیدتوں کا پرچار کر رہے ہیں

معراجِ مصطفیؐ کی تصدیق کرنے والے
انساں کی عظمتوں کا اقرار کر رہے ہیں

دل میں شجر اُگا کر ہم یادِ مصطفیٰؐ کے
صحرائے زندگی کو گلزار کر رہے ہیں

جو لوگ بہرہ ور ہیں تعلیمِ مصطفیٰؐ سے
وہ آج بھی جہاں میں ایثار کر رہے ہیں

توصیفِ مصطفیٰؐ سے، تقلیدِ مصطفیٰؐ سے
ہم خود بلند اپنا معیار کر رہے ہیں

ان کے بھی نقشِ پا ہیں، یارو چراغِ منزل
وہ جن کی رہنمائی سرکارؐ کر رہے ہیں

خدمت تو کر نہ پائے ہم دینِ مصطفیٰؐ کی
لوگوں کو دین سے ہم بیزار کر رہے ہیں

اعجازؔ مصطفیٰؐ کے نقشِ قدم پہ چل کر
ہم راہِ آخرت کو ہموار کر رہے ہیں