طیبہ میں مطمئن دلِ بیتاب ہو گیا

طیبہ میں مطمئن دلِ بیتاب ہو گیا
صحرا مرے وجود کا شاداب ہو گیا

ہوتے ہی دُور گنبدِ خضرا کے سائے سے
کانٹوں کی سیج بسترِ کمخواب ہو گیا

ذرّوں کو آب مہرِ رسالت سے مل گئی
قدموں کو جس نے چھو لیا مہتاب ہوگیا

اُمی لقب نے علم کے دریا بہا دیے
روشن چراغِ منبر و محراب ہو گیا

وہ دشت جل رہا تھا جو صدیوں سے دھوپ میں
رحمت کی ایک بوند سے سیراب ہوگیا

پہنچا جو زیرِ سایۂ دیوارِ مصطفیٰؐ
میرا جنوں بھی واقفِ آداب ہو گیا

ان کے کرم نے یوں مرے عصیاں ڈبو دیے
فرعون، جیسے نیل میں غرقاب ہو گیا

پڑھ کر درود میں نے لیا جب خدا کا نام
حافظ مرے سفینے کا گرداب ہو گیا

سارے گناہ اشکِ ندامت سے دھل گئے
قطرہ خدا کے فضل سے سیلاب ہو گیا

لے آئی ہے کہاں ہمیں تقلید غیر کی
اِس دور میں خلوص بھی نایاب ہو گیا

اعجازؔ ہے یہ سیرتِ خیرالانامؐ کا
کتنا وسیع حلقۂ احباب ہو گیا