جس قدر اِزم بھی ہیں جہاں کے، اُن سے انسا ن کو کیا ملا ہے

جس قدر اِزم بھی ہیں جہاں کے، اُن سے انسا ن کو کیا ملا ہے
دامنِ مصطفیؐ چھوڑنے سے، آدمی کرب میں مبتلا ہے

کیوں یہ محفل سجائی گئی ہے، کس کی آمد کا یہ سلسلہ ہے
عرشِ اعظم سے فرشِ زمیں تک، نور ہی نور پھیلا ہوا ہے

چاند سورج کی منزل سے آگے لامکاں کی حدوں سے ملا ہے
کہکشاں جن کی گردِ سفر ہے مصطفیؐ کا وہی راستہ ہے

کشتیاں دور تھیں ساحلوں سے قافلے دور تھے منزلوں سے
رہنمائی سے خیرالبشرؐ کی آدمی کو خدا مل گیا ہے

یہ جو انسان کی رفعتیں ہیں ساری کردار کی عظمتیں ہیں
مصطفیٰؐ نے کیا تھا جو روشن وہ چراغ آج بھی جل رہا ہے

مشعلِ راہِ رشد و ہدایت، رہبرِ منزلِ نور و نکہت
سیرتِ سرورِ انبیاؑء تھی سیرتِ سرورؐ انبیاؑء ہے

کوئی گورا ہو یا کوئی کالا، کوئی ادنیٰ ہو یا کوئی اعلیٰ
آئینہ سیرتِ مصطفیٰؐ کا سامنے سب کے رکھا ہوا ہے

باندھ رختِ سفر چل مدینے یاد تجھے کو کیا ہے نبیؐ نے
رُک نہ جائے سفر زندگی کا، زندگی کا بھروسہ ہی کیا ہے

بھائیو! دوستو! اے رفیقو! بات اعجازؔ کی اتنی سن لو
آؤ اُس کی روش پر چلیں ہم رہنماؤں کا جو رہنما ہے