پیشِ نگاہ اُسوۂ خیرالوریٰؐ تو ہے

پیشِ نگاہ اُسوۂ خیرالوریٰؐ تو ہے
کردار دیکھنے کے لیے آئینہ تو ہے

ذکرِ شاہِ انامؐ کی خوشبو سے آج بھی
گلزار کائنات کا مہکا ہوا تو ہے

چادر تنی ہوئی ہے درود و سلام کی
دنیا کے سر پہ سایۂ صلِّ علیٰ تو ہے

اب مجھ کو چھوڑ بھی دے زمانہ تو غم نہیں
سرکارِ دو جہاں سے مرا رابطہ تو ہے

چلنا پڑے گا نقشِ قدم پر رسولؐ کے
بس اِرتقا کا ایک یہی راستہ تو ہے

سرکارؐ کے کرم کی نہیں کوئی انتہا
میری برائیوں کی مگر انتہا تو ہے

وہ رحمتِؐ تمام ہیں اور سب کے واسطے
مجھ سے گنہگار کا اِک آسرا تو ہے

اپنا لیا ہے جس نے طریقہ رسولؐ کا
وہ شخص کائنات کو پہچانتا تو ہے

ذکرِ رسولِ پاک کا یہ بھی ہے معجزہ
اعجازؔ اِک زمانہ مجھے جانتا تو ہے