یہ توفیق بخشی ہوئی ہے خدا کی

یہ توفیق بخشی ہوئی ہے خدا کی
مرے لب پہ مدحت ہے خیرالوریٰؐ کی

ہوئی اُس کو تائید حاصل خدا کی
محمد نے جس کام کی ابتدا کی

سجا ہے جبیں پہ جو عرش عُلا کی
یہ عظمت بھی ہے آپؐ کے نقشِ پا کی

ہوا تو نہیں روضۂ مصطفیٰؐ کی
یہ خوشبو جو پھیلی ہوئی ہے وفا کی

نہیں جن کو نسبت درِ مصطفیؐ سے
ضرورت ہے اُن آئینوں کو جِلا کی

مسلسل عمل ہے جو پیہم عبادت
وہ ہے زندگی، زندگی مصطفیٰؐ کی

ہوا جاگزیں آفتابِ رسالت
چمک اٹھی تقدیر غارِ حرا کی

کوئی اور ہے مصطفیؐ کے علاوہ
اِمامت ملی ہو جسے انبیاؑ کی

یہ صدقہ بھی ہے نقشِ پائے نبیؐ کا
ملی ہے جو منزل ہمیں ارتقاء کی

یہ عالم ہوا چھوڑ کر اُن کا دامن
کوئی اِس کا شاکی، کوئی اُس کا شاکی

جو ہے گامزن جادۂ مصطفیؐ پر
ضرورت اُسے کیا کسی رہنما کی

میں لکھتا ہوں اعجازؔ جب نعتِ احمدؐ
صدا گونج اٹھتی ہے صلِّ علیٰ کی