خیال میں جو رسالت مآبؐ آتے ہیں

خیال میں جو رسالت مآبؐ آتے ہیں
شعور و فکر کے آفاق جگمگاتے ہیں

دُرود پڑھ کے جو ہم نعت گنگناتے ہیں
فرشتے عرش سے لے کر سلام آتے ہیں

نظر جو پڑتی ہے تاریخِ آدمیت پر
حضورؐ آپ کے احسان یاد آتے ہیں

حضورؐ آپ نے جن کو شعور بخشا ہے
برائیوں کو زمانے سے وہ مٹاتے ہیں

اندھیرا آپ کی تعلیم ہی سے مٹتا ہے
چراغِ علم و عمل آپ ہی جلاتے ہیں

حضورؐ آپ کے نقشِ قدم ہیں سمت نما
یہ خضرِ وقت کو بھی راستہ بتاتے ہیں

جہاں جہاں بھی زمانے میں ہیں عظیم انساں
حضورؐ آپ کی عظمت کے گیت گاتے ہیں

وہاں بھی رہتا ہے رشتہ رسولؐ سے قائم
جہاں پہ خون کے رشتے بھی ٹوٹ جاتے ہیں

حضورؐ صاحبِ خلقِ عظیم ہیں اعجازؔ
وہ دشمنوں کو بھی ہنس کر گلے لگاتے ہیں