ارتقائے بشر کا نشاں آپؐ ہیں

ارتقائے بشر کا نشاں آپؐ ہیں
نقشِ پا جن کے ہیں کہکشاں! آپؐ ہیں

عرش پر آپؐ اہلِ زمیں کا بھرم
فرش پر فخرِ ہفت آسماں آپؐ ہیں

آپؐ کے دم سے قائم ہے یہ سلسلہ
عہد و معبود کے درمیاں آپؐ ہیں

آپؐ کی ذات ہے نورِ صبحِ ازل
اس جگہ روشنی ہے جہاں آپؐ ہیں

آپؐ کو کیوں نہ قرآنِ ناطق کہیں
گفتگو میں خدا کی زباں آپؐ ہیں

آپؐ ہیں حسنِ اخلاق کی انتہا
اپنے دشمن پہ بھی مہرباں آپؐ ہیں

کلمۂ طیبہ میں بھی نام آپؐ کا
کون ہے شاملِ ہر اذاں آپؐ ہیں

آپؐ کا اِک پتا مجھ کو معلوم ہے
علم و دانش جہاں ہے وہاں آپؐ ہیں

مجھ گنہگار پر بھی نگاہِ کرم
حشر میں ڈھونڈتا ہوں کہاں آپؐ ہیں

آپؐ پر ختم اعجازؔ کا ہر سخن
حاصلِ حسنِ لفظ و بیاں آپؐ ہیں