کس میں ہے یہ جرأت اُس کی عظمت سے انکار کرے

کس میں ہے یہ جرأت اُس کی عظمت سے انکار کرے
سب سے بڑی سچائی کا جو طائف میں اظہار کرے

اُس کی راہ پہ چلنے والے سورج بن کر اُبھرے ہیں
سنگ زنوں کو جس کی سیرت آئینہ کردار کرے

دنیا ہے اِک جلتا صحرا، ذات اُس کی ہے ابرِ کرم
جب بھی اُس کی رحمت برسے، آتش کو گلزار کرے

دین سے اُس کو مطلب کیا ہے، شاہ اُممؐ سے نسبت کیا ہے
وہ انساں جو انسانوں سے نفرت کا اظہار کرے

اُس کی شرافت، اُس کی متانت، اُس کی دیانت بے پایاں
اُس کی صداقت کیا کہنا، انصاف جو بے تلوار کرے

کیا ہے نبوّت، کیا ہے رسالت، کیا ہے شفاعت، کیا ہے کرم
کامل اُس کا ایماں ہے جو اِن سب کا اقرار کرے

رحمتِ عالمؐ، خلقِ مجسم، اُس کو دنیا کہتی ہے
اپنوں کو جو گلے لگائے، بیگانوں سے پیار کرے

صلی اللہ علیہ وسلم، وردِ زباں ہم رکھتے ہیں
کس کو اتنی فرصت ہے جو ذکرِ لب و رخسار کرے

جب وہ نقابِ رخ اُٹھے گا تاب کہاں لائے گی نظر
یا رب ایسی آنکھ عطا کر جو اُس کا دیدار کرے

وہ شاعر اعجازؔ یقیناً اچھی قسمت والا ہے
روضۂ اقدس پر جاکر جو پیش اپنے اشعار کر